ایران سے لین دین بند کرو، ورنہ امریکی پابندیوں کیلئے تیار رہو، واشنگٹن کی غیرملکی بینکوں کو وارننگ

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ایسے اداروں کو پیشگی اطلاع کے بغیر بھی نشانہ بنایا جاسکتا ہے


ویب ڈیسک October 06, 2026

امریکا نے ایران کے ساتھ کاروبار اور مالی لین دین کرنے والے غیرملکی مالیاتی اداروں کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کے مالیاتی شعبے کے ساتھ معاملات جاری رکھنے والے بینکوں کو واشنگٹن کی جانب سے کسی بھی وقت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ نے واضح کیا ہے کہ ایسے اداروں کو پیشگی اطلاع کے بغیر بھی نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق جو غیرملکی مالیاتی ادارے پابندیوں کی زد میں موجود ایرانی بینکوں کے ساتھ لین دین جاری رکھیں گے، انہیں فوری طور پر ایسے معاملات اور مالیاتی تعلقات ختم کرنے چاہئیں۔

واشنگٹن نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے مالیاتی نظام کو عالمی مالیاتی نظام تک رسائی فراہم کرنے والے ادارے بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق غیرملکی مالیاتی اداروں کی جانب سے ایرانی بینکوں یا ان کی بیرونِ ملک شاخوں اور ذیلی اداروں کو مالیاتی خدمات فراہم کرنا بھی پابندیوں کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ایسے معاملات میں امریکی مالیاتی اداروں یا امریکی افراد کو پابندیوں کی خلاف ورزی کا سبب بننے پر متعلقہ اداروں کو سول اور فوجداری کارروائی کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔

امریکا نے ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کیلئے حالیہ دنوں میں پابندیوں کا دائرہ مزید وسیع کیا ہے۔ یکم اکتوبر کو امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے آٹو موبائل، ریلوے، مینوفیکچرنگ اور اسٹیل سے متعلق نیٹ ورکس کو بھی نشانہ بنایا تھا جبکہ اس سے قبل ایرانی مالیاتی اور اسلحہ سازی کے نیٹ ورکس کے خلاف بھی کارروائیاں کی جاچکی ہیں۔

امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ اس مہم کا مقصد ایران کی ان مالیاتی اور تجارتی سرگرمیوں کو محدود کرنا ہے جن کے ذریعے تہران امریکی پابندیوں سے بچنے یا اپنی آمدنی اور مالی وسائل منتقل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

اس پالیسی کے تحت واشنگٹن غیرملکی بینکوں اور کمپنیوں پر بھی دباؤ بڑھا رہا ہے تاکہ وہ ایرانی مالیاتی اداروں کے ساتھ کاروباری روابط ختم کریں۔