خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی کی تیاریاں، صوبائی حکومت کو پیغام پہنچادیا گیا

وزیراعظم نے آج اہم اجلاس طلب کرلیا، وفاقی کابینہ ارکان کو اسلام آباد میں رہنے کی ہدایت


ویب ڈیسک October 10, 2026

اسلام آباد:

وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی تیاریاں مکمل کرلیں، اس مجوزہ فیصلے سے متعلق صوبائی حکومت کو پیغام بھی پہنچا دیا گیا ہے، وزیر اعظم کی زیر صدارت آج ہونے والے اجلاس میں اہم فیصلوں کا امکان ہے۔

 ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق غور کے پیش نظر وفاقی کابینہ کے ارکان کو اسلام آباد میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ وفاقی کابینہ کا اجلاس جلد طلب کیے جانے کا امکان ہے، جس میں اعلیٰ سیاسی و عسکری حکام کی شرکت متوقع ہے۔ اجلاس میں قومی سلامتی کے اداروں کی رپورٹس کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

ایوان صدر میں بھی آج اعلیٰ سطحی اجلاس کا امکان ہے جس میں صدر اصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف شریک ہوں گے،  مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کا وفد بھی شریک ہوگا، اجلاس میں سیاسی صورتحال اور مذاکرات پر تبادلہ کیا جائیگا اور پختونخوا کے سیاسی مستقبل اور لانگ مارچ کے حوالے سے بھی غور کیا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق فاٹا کے ضم شدہ اضلاع سمیت خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ اس کے علاوہ صوبے میں بعض اہم اختیارات وفاق کے استعمال میں دینے کی تجویز پر بھی غور کیا جا رہا ہے، ان میں آٹھ ضم شدہ قبائلی اضلاع میں خیبر، کرم، اورکزئی، باجوڑ، مہمند، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اور زیریں وزیرستان شامل ہیں، چار بندوبستی اضلاع ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، بنوں اور لکی مروت بھی اس مجوزہ منصوبے کا حصہ ہوں گے۔

ان اضلاع کے لیے صوبائی انتظامی ڈھانچے سے الگ ایک خصوصی انتظام قائم کرنے کی تجویز زیر غور ہے، ابتدائی طور پر ایمرجنسی دو ماہ کے لیے نافذ کرنے کی تجویز ہے، جس کے بعد صورتحال کا جائزہ لے کر اس میں توسیع کی جا سکتی ہے۔

ان اضلاع کے لیے سیکریٹری کی سربراہی میں گریڈ 21 کا سیکریٹریٹ قائم کیا جائے گا، جس میں گریڈ 21 کا پولیس افسر بھی تعینات ہوگا،  چار سے چھ دیگر انتظامی افسران بھی سیکریٹریٹ کا حصہ ہوں گے جو انتظامیہ، خزانہ، ترقی و منصوبہ بندی اور دیگر امور کے ذمہ دار ہوں گے، ان افسران کی تعیناتی براہِ راست وفاقی حکومت کرے گی۔

 ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے میں متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور ضلعی پولیس اور ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس کو جواب دہ ہوں گے، مجوزہ اقدامات پر غور کے دوران آئین کے آرٹیکل 232 سے 234 تک کی متعلقہ دفعات کا جائزہ بھی لیا جا سکتا ہے۔

ان آئینی دفعات کے تحت ہنگامی صورتحال میں بعض غیر معمولی حالات میں وفاقی سطح پر اقدامات کے مختلف طریقے کار موجود ہیں، ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کے آئینی طریقہ کار اور قانونی اثرات الگ الگ ہیں، اس لیے حتمی فیصلے کی نوعیت متعلقہ آئینی تقاضوں کے مطابق طے ہوگی، آئین کے آرٹیکلز 232 سے 234 تک کی روشنی میں مشاورت کے بعد اہم فیصلوں کی منظوری دیے جانے کا امکان ہے۔