معروف سینئر صحافی اور پروگرام ’سرِعام‘ کے میزبان اقرار الحسن کو مبینہ طور پر رات گئے گھر سے پولیس کی جانب سے حراست میں لیے جانے پر ان کی تینوں اہلیہ آبدیدہ ہو گئیں۔
اقرار الحسن کی دوسرے نمبر کی اہلیہ فرح یوسف نے روتے ہوئے بتایا کہ انہیں بیچ رات میں کمرے سے نکال کر لے جایا گیا۔
انہوں نے سوال کیا کہ یہ کیسا رویہ ہے ایسے انسان کے ساتھ جس نے پاکستان کیلئے بہت کام کیا، فراڈ کرنے والوں اور مختلف مافیاز کو بے نقاب کیا، لیکن وہ آج انہیں اپنے ہی گھر سے لے جایا گیا۔
اہلیہ نے وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے معاملے کا نوٹس لینے، اقرار الحسن کی بحفاظت واپسی اور اہل خانہ کی مدد کرنے کی اپیل کی۔
دوسری جانب اقرار الحسن کے بیٹے پہلاج نے انسٹاگرام پر والد کی فوری رہائی کیلئے دعاؤں کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ والد کو سچ بولنے کی سزا دی جا رہی ہے۔