66 سال پرانی سائنسی تحقیق میں دنیا کے خاتمے کی تاریخ کی پیشگوئی

1960 میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں 13 نومبر 2026 کو ایک غیر معمولی تاریخ قرار دیا تھا


ویب ڈیسک October 14, 2026

66 سال قبل شائع ہونے والے ایک سائنسی مقالے نے دنیا کی آبادی میں غیر معمولی اضافے کے تناظر میں 13 نومبر 2026 کو ایک غیر معمولی تاریخ قرار دیا تھا، جسے اب سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ میں دنیا کے خاتمے کی پیش گوئی کے طور پر بیان کیا جا رہا ہے۔

معروف سائنسی جریدے سائنس میں 1960 میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں آسٹریا میں پیدا ہونے والے امریکی طبیعیات دان ہائنز فان فورسٹر اور یونیورسٹی آف الِینوائے کے محققین نے تاریخی آبادیاتی رجحانات کا جائزہ لیا تھا۔

تحقیق کے مطابق اگر انسانی آبادی میں اضافہ گزشتہ دو ہزار برسوں کے رجحانات کے مطابق جاری رہتا تو آبادی غیر معمولی رفتار سے بڑھتے ہوئے لامحدود ہونے کے قریب پہنچ سکتی تھی۔ مقالے میں خبردار کیا گیا تھا کہ مستقبل میں انسانوں کو بھوک سے زیادہ آبادی کے شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مقالے میں لکھا گیا تھا کہ ہمارے پڑپوتے اور پڑپوتیاں بھوک سے نہیں مریں گے بلکہ آبادی کے دباؤ کے باعث کچل کر رہ جائیں گے۔

اس تحقیق کی اشاعت کے وقت آبادی کے ماہرین میں اس کے نتائج پر اختلافات سامنے آئے تھے۔ تاہم، مضمون کے مطابق 1990 کی دہائی تک عالمی آبادی میں اضافے کے حوالے سے اس کی پیش گوئیاں بظاہر درست ثابت ہوتی دکھائی دیتی رہیں۔

چھ دہائیاں گزرنے کے بعد، مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی صلاحیتوں میں تیزی سے اضافے کے باعث ایک بار پھر دنیا کی تباہی سے متعلق انتباہ سامنے آنے لگے ہیں۔

ڈُومز ڈے کلاک (جسے 1947 میں بلیٹن آف دی اٹامک سائنٹسٹس نے متعارف کرایا تھا) اس وقت آدھی رات سے صرف 85 سیکنڈ دور ہے جبکہ گزشتہ سال یہ فاصلہ 89 سیکنڈ تھا۔

یہ ڈُومز ڈے کلاک میں آدھی رات کے وقت کے سب سے قریب ترین مقام ہے۔ دنیا کے ممتاز سائنس دانوں نے عالمی جنگ، موسمیاتی تبدیلی اور بے قابو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے خطرات کی جانب توجہ دلائی ہے۔