امریکی مسلم سیاست دان الہان عمر کا حجاب ہٹا کر بنائی گئی مبینہ گرفتاری کی تصویر جعلی نکلی

الہان عمر کے کانگریسی دفتر کے ترجمان نے واضح طور پر بتایا کہ الہان عمر کو گرفتار نہیں کیا گیا۔


ویب ڈیسک October 16, 2026

امریکی رکن کانگریس الہان عمر کے گھر پر چھاپے کے بعد سوشل میڈیا پر ان کی ایک مبینہ گرفتاری کی تصویر وائرل ہو رہی ہے، جس میں انہیں گنجے سر کے ساتھ پولیس کی حراست میں دکھایا گیا ہے۔

دعویٰ کیا ہے؟

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصویر کو الہان عمر کی گرفتاری کے بعد لی گئی پولیس تصویر، یعنی ’مگ شاٹ‘ قرار دیا جا رہا ہے۔

اس کے ساتھ ایک اور تصویر بھی شیئر کی گئی جس میں حجاب کو پولیس کے شواہد والے تھیلے میں دکھایا گیا ہے۔

یہ تصاویر 12 اکتوبر کو واشنگٹن ڈی سی میں الہان عمر کی رہائش گاہ پر امریکی حکام کے چھاپے کے بعد سامنے آئیں۔

حقیقت کیا ہے؟

الہان عمر کی مبینہ گرفتاری کی تصویر جعلی اور ترمیم شدہ ہے۔ یہی تصویر اس سے قبل 2020 میں بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی، جس کی رائٹرز نے اس وقت بھی تردید کی تھی۔

تحقیقات سے معلوم ہوا کہ تصویر بنانے کیلئے الہان عمر کی ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک اصل تصویر کو 2019 میں ویلز کی پولیس کی جانب سے جاری کردہ ایک دوسرے شخص کے مگ شاٹ کے ساتھ جوڑا گیا تھا۔

Gwent Police Jermaine Taylor

Reuters Image

رائٹرز کے مطابق تصاویر کے تجزیے سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ دونوں وائرل تصاویر ممکنہ طور پر مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار یا تبدیل کی گئی ہیں۔

دوسری جانب الہان عمر کے کانگریسی دفتر کے ترجمان نے رائٹرز کو واضح طور پر بتایا کہ الہان عمر کو گرفتار نہیں کیا گیا۔

نتیجہ

الہان عمر کی گرفتاری کے نام پر وائرل تصویر جعلی ہے۔

اگرچہ 12 اکتوبر کو ان کی رہائش گاہ پر امریکی حکام نے تحقیقات کے سلسلے میں چھاپہ مارا تھا، تاہم ان کی گرفتاری کی کوئی معتبر تصدیق موجود نہیں۔

لہٰذا وائرل تصویر کو الہان عمر کی گرفتاری کا حقیقی ثبوت قرار دینا غلط اور گمراہ کن ہے۔