امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیٹی زکریا کو عہدے پر تعیناتی کے صرف ایک ہفتے بعد برطرف کردیا۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق صدر کے مشیروں نے بتایا کہ ٹرمپ نے کیٹی زکریا کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
مشیروں کے بقول کیٹی زکریا صدر ٹرمپ کی قابل اعتماد ساتھی ہیں لیکن امریکی صدر اب ان کو حکومتی معاملات اور پالیسیوں کو میڈیا کے سامنے دفاع کے لیے مناسب شخصیت نہیں سمجھتے۔
اس سے قبل جمعے کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ انھوں نے کیٹی زکریا کو اپنے عہدے پر برقرار رہنے کے فیصلے پر نظرثانی کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنی پریس سیکرٹری کا دفاع کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ کیٹی زکریا کو میڈیا کی جانب سے نامناسب رویے کا سامنا کرنا پڑا تاہم یہ بھی اشارہ دیا کہ شاید یہ عہدہ ان کے لیے موزوں نہیں ہے۔
یاد رہے کہ کیٹی زکریا نے گزشتہ ہفتے وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا منصب سنبھالا تھا اور منگل کو پہلی پریس بریفنگ کے دوران وہ بظاہر گھبرائی ہوئی دکھائی دیں اور صرف تین سوالات کے جواب دے پائی تھیں۔
تنازع اس وقت کھڑا ہوگیا جب ایک صحافی نے ان سے پوچھا کہ انھوں نے امریکا کی کس ریاست میں وکالت کا لازمی امتحان پاس کیا تھا جس پر نئی ترجمان نے جواب دیا کہ ’’چین‘‘۔۔
اس جواب نے نئی پریس سیکرٹری کی قانونی اہلیت پر بحث شروع ہوگئی کیوں کہ صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کیٹی زکریا کی تقرری کا اعلان کرتے ہوئے انھیں وکیل قرار دیا تھا جبکہ وہ بھی خود کو وکیل کہتی رہی ہیں۔
کیٹی زکریا نے بعد میں کہا کہ سوال سننے میں غلطی ہوئی تھی اور انھیں لگا کہ صحافی پوچھ رہا ہے کہ قانون کی تعلیم کے بعد وہ کہاں گئی تھیں۔ ان کے بقول بین الاقوامی تجارتی قانون کے شعبے میں مناسب اسناد کے ساتھ کام کیا ہے۔
تنظیم ’کمپین فار اکاؤنٹیبلٹی‘ نے بدھ کو کیلیفورنیا کے محکمہ وکلا میں شکایت درج کرائی جس میں تحقیقات کا مطالبہ کیا کہ آیا زکریا نے لائسنس کے بغیر خود کو وکالت کا اہل ظاہر کیا۔
واضح رہے کہ کیٹی زکریا پہلے قدامت پسند ٹی وی مبصر کے طور پر ٹرمپ کی توجہ حاصل کرچکی تھیں۔ ان کی تقرری دیگر ممکنہ امیدواروں کے ٹرمپ پر تنقیدی بیانات کے باعث نااہل قرار پانے کے بعد تیزی سے عمل میں آئی تھی۔