اسٹیٹ بینک نے شرح سود ساڑھے 11 سے بڑھا کر  12 فیصد کردی

شرح سود میں آئندہ ڈیڑھ ماہ کے لیے 50 بسیز پوائنٹس کا اضافہ کیا گیا


اسٹاف رپورٹر October 26, 2026
فوٹو: فائل

کراچی:

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود ساڑھے 11 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد کردی۔

مرکزی بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں آئندہ ڈیڑھ ماہ کے لیے شرح سود میں 50 بیسز پوائنٹس اضافہ کردیا گیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ جائزوں میں شرح سود 11.5 فیصد پر برقرار رکھی گئی تھی۔

آج ہونے والے اجلاس میں مانیٹری پالیسی کمیٹی نے افراط زر کی صورتحال سمیت دیگر معاشی اشاریوں کا جائزہ لیا، جس کے بعد شرح سود کو ساڑھے 11 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد کرنے کا اعلان کردیا گیا۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے اس حوالے سے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ایران امریکا جنگ کے نتیجے میں توانائی کی قیمتوں پر اثر آیا، خام تیل کا 100 ڈالر بیرل پر رہنے سے افراط زر پر دباؤ آیا، مانیٹری پالیسی کمیٹی کے 10 میں سے 9 اراکین نے اضافے کے حق میں ووٹ دیا، پہلی سہ ماہی میں جولائی اگست تک یہ لگ رہا تھا کہ سال کے آخر تک 7 فیصد کے آس پاس مہنگائی رہے گی مگر حالیہ صورتحال کے تحت اس میں وقت لگے گا، گزشتہ مانیٹری پالیسی اجلاس سے اب تک کافی فرق آیا ہے، کور انفلیشن میں بہتری آئی لیکن آنے والے وقت میں ثانوی اثرات ہوں گے، بیرونی کھاتے پر گلوبل کموڈٹی اور آئل پرائسز سے دباؤ آیا، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے اہداف پر بھی فرق ہڑے گا، خسارہ جی ڈی پی کے صفر سے ایک فیصد تک رہنے کی توقع ہے۔

گورنر نے کہا کہ ترسیلات کی آمد میں بہتری کی توقع ہے ترسیلات سے متعلق انعامی اسکیم سے بہتر ہوگی، پہلی سہ ماہی میں 10.9 ارب ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں، ترسیلات 44 ارب ڈالر سے بڑھ کر 45 ارب ڈالر تک رہنے کی توقع ہے، ایکسپورٹ میں بھی بہتری کا رجحان ہے لیکن ایکسپورٹ اتنی بہتر نہیں، رواں مالی سال برآمدات 32.5 سے 33 ارب ڈالر تک رہنے کی توقع ہے، درآمدات پر کافی دباؤ کا سامنا ہے، درآمدی بل 71 ارب ڈالر سے زائد رہنے کی توقع ہے۔

گورنر نے بتایا کہ پچھلے سال تین سہ ماہیوں میں 4.2 فیصد معاشی نمو رہی، گزشتہ سال ہر سہ ماہی میں نمو میں استحکام رہا، چوتھی سہ ماہی میں مشرق وسطیٰ صورتحال کی وجہ سے معاشی ترقی کی شرح نمو 3.7  فیصد رہی، 3.75 سے 4.75 فیصد جی ڈی پی گروتھ کا تخمینہ مالی سال 2026 کے لیے لگایا گیا، رواں مالی سال معاشی ترقی کی شرح نمو میں پہلی سہ ماہی میں بہتری آئی ہے، رواں مالی سال معاشی ترقی کی شرح نمو 3.5 سے 4.5 فیصد رہنے کی توقع ہے، زرعی شعبے کی پیداوار بہتر ہوئی ہے، پہلی سہ ماہی میں گنے چاول اور مکئی کی پیدوار میں اضافہ ہوا، کپاس  میں کمی رہی، زرعی شعبہ اس سال بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گا۔