پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے گم شدہ افراد کی تلاش کے منصوبے ’میرا پیارا‘ نے ایک اور نمایاں کامیابی حاصل کر لی جہاں سیف سٹی کی ٹیم نے 40 سال سے اپنے خاندان سے بچھڑی بنگلہ دیشی خاتون حلیمہ کے اہل خانہ کا سراغ لگاتے ہوئے مسلسل کوششوں، محدود معلومات اور مختلف ذرائع سے رابطوں کے نتیجے میں حلیمہ کے بیٹے اور بھتیجے کو بنگلہ دیش میں تلاش کر لیا۔
پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے مطابق بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والی حلیمہ 2013 میں اسلام آباد میں لاوارث حالت میں ملی تھیں، اردو زبان سے ناواقفیت کے باعث وہ اپنی شناخت، آبائی علاقے اور اہل خانہ سے متعلق مکمل معلومات فراہم کرنے سے قاصر تھیں، انہیں عارضی رہائش اور دیکھ بھال کے لیے ایدھی سینٹر منتقل کیا گیا، جہاں وہ کئی سال سے مقیم تھیں۔
اس حوالے سے بتایا گیا کہ پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کی ’میرا پیارا‘ ٹیم نے حلیمہ کی جانب سے فراہم کردہ محدود معلومات کی بنیاد پر ان کے خاندان کی تلاش کا آغاز کیا، ٹیم نے سوشل میڈیا، مقامی انتظامیہ اور دیگر دستیاب ذرائع سے مسلسل رابطے جاری رکھے اور مختلف معلومات کو یکجا کرکے تلاش کا دائرہ بنگلہ دیش تک وسیع کیا۔
اتھارٹی کے مطابق حلیمہ کے بتائے گئے آبائی گاؤں اور اہل خانہ کے ناموں کی مدد سے بالآخر سیف سٹی ٹیم بنگلہ دیش میں ان کے بیٹے اور بھتیجے تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی، بعد ازاں مقامی حکام اور اہل خانہ سے رابطہ کرکے فراہم کردہ معلومات کی تصدیق بھی کی گئی۔
پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے مطابق ان کا ’میرا پیارا‘ منصوبہ ملک بھر سمیت بیرون ملک اپنے پیاروں سے بچھڑ جانے والے افراد کو خاندانوں سے ملانے کے لیے سرگرم عمل ہے، اس سے قبل بھی سیف سٹی ٹیم نے 40 سال سے بچھڑی بنگلہ دیشی خاتون کوہ نور کے اہل خانہ کا سراغ لگا کر انسانی خدمت کی ایک قابلِ تحسین مثال قائم کی تھی۔
ترجمان پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کا کہنا تھا کہ ’میرا پیارا‘ ٹیم سرحدوں سے بالاتر ہو کر انسانیت کی خدمت اور بچھڑے ہوئے افراد کو ان کے خاندانوں سے ملانے کے مشن پر عمل پیرا ہے، حلیمہ کے اہل خانہ کی تلاش اس عزم اور مسلسل جدوجہد کی ایک اور نمایاں کامیابی ہے۔
ترجمان نے شہریوں سے اپیل کی کہ کسی بھی گم شدہ یا لاوارث شخص کی اطلاع دینے کے لیے پنجاب بھر میں ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 پر کال کریں اور ’میرا پیارا‘ سروس کے لیے 3 دبائیں تاکہ بروقت کارروائی کے ذریعے بچھڑے ہوئے افراد کو ان کے پیاروں سے ملایا جا سکے۔