فرقہ وارانہ تشددختم کیے بغیرپاکستان میں امن ناممکن ہے

پاکستان نے طالبان اورغیرملکی دہشتگردوں کو بھگاکر اسٹرٹیجک کامیابی حاصل کی، ملک کے اندر فرقہ وارانہ گروب بھی سرگرم ہیں

پاکستان نے طالبان اورغیرملکی دہشتگردوں کو بھگاکر اسٹرٹیجک کامیابی حاصل کی تاہم ملک کے اندر فرقہ وارانہ گروپ اب بھی سرگرم ہیں:فوٹو : فائل

امریکی جریدے فارن پالیسی نے کہا ہے کہ پاکستان میں فرقہ وارانہ تشددکوختم کیے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا، 1989کے بعد سے 5 ہزارسے زائد پاکستانی فرقہ وارانہ حملوں میں اپنی زندگیاں گنواچکے ہیں۔

جریدے نے اپنی تازہ رپورٹ میں لکھاکہ خطرناک پہلو یہ ہے کہ فرقہ وارانہ بنیاد پرستی اب مدارس تک محدود نہیں بلکہ معروف تعلیمی اداروںتک پھیل گئی۔عسکریت پسندی کاچیلنج کثیرجہتی ہے۔


امریکی جریدے کے مطابق'' قومی ایکشن پلان پر عمل سے دہشت گردی کے واقعات میں توکمی آئی تاہم فرقہ وارانہ تشدد میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ اس میں اضافہ ہوا۔رپورٹ میں کہاگیاکہ فرقہ ورانہ تشددکے چیلنج کاکوئی فوری حل نظر نہیں آتاجبکہ حقیقت یہ ہے کہ فرقہ وارانہ تشددکے خاتمے کے بغیر پاکستان میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔فارن پالیسی کے مطابق شجاع خانزادہ پرخودکش حملہ کرنیوالوں میں ایک پنجاب یونیورسٹی کاگریجویٹ تھا۔

پاکستان نے طالبان اورغیرملکی دہشتگردوں کو بھگاکر اسٹرٹیجک کامیابی حاصل کی تاہم ملک کے اندر فرقہ وارانہ گروپ اب بھی سرگرم ہیں۔1989کے بعدسے پانچ ہزارسے زائد پاکستانی فرقہ وارانہ حملوں میں زندگیاں گنوا چکے ہیں۔

گزشتہ سال 208 جبکہ رواں برس202 افراد فرقہ واریت کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ستم ظریفی یہ ہے کہ کچھ فرقہ وارانہ گروپ سیاسی جماعتوں سے وابستگی رکھتے ہیں جبکہ پاکستان میں داعش کی موجودگی کی بھی اطلاعات ہیں۔
Load Next Story