شامت میری تھی اور حکومت کسی اور کی
تو آپ ہمیں پاکستان کی تاریخ میں آمروں کا کردار بتانے لگ جاتے۔
اگر ہم پوچھتے کہ جناب حکومت صاحب!آپ کہاں غائب ہیں، تو ہمیں غدار کہہ دیا جاتا۔ اگر ہم آپ کے دروازے پر آکر یہ سوال کرتے کہ محترم ہمیں یہ تو بتادیجیے کہ یہاں لوگ تعلیم، صحت پر اپنی آمدن خرچ کریں یا پھر اپنے پیٹ کا دوزخ بھریں، تو آپ ہمیں دھرنے والوں کا سبق پڑھانے کی کوشش کرتے۔ ہم جیسے فقیر آپ کے حضور سلام بجا لاتے اور پھر اپنا کشکول آگے کرتے ہوئے بس اتنا کہتے کہ جناب وہ خواب کہاں گئے جو ہمیں دن کی روشنی میں دکھائے گئے تھے۔
تو آپ ہمیں پاکستان کی تاریخ میں آمروں کا کردار بتانے لگ جاتے۔ گلی محلے میں آپ کے وزیر نظر آتے نہیں جن سے مجھ جیسے لفنگے چلتے چلتے پوچھ لیتے کہ بھائی بجلی کب آئے گی؟ اسمبلی میں آپ کے اسپیکر اس بات پر احتجاج کرتے ہیں کہ وزیر کون سی دنیا میں بستے ہیں؟ ایسے میں اگر کسی نے آپ سے یہ پوچھ لیا کہ حکومت کہاں ہے تو اس میں برا ماننے کی کیا بات ہے۔ آپ انھیں کہنے لگ گئے کہ ہر ادارے کو اپنی حد میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔ یہ ہی بات تو سندھ کے لیے بھی کہی جارہی تھی۔ لیکن اس وقت تو آپ کہہ رہے تھے کہ آپریشن جاری رہے گا اور حکومت مکمل طور پر آپریشن کے ساتھ ہے۔ آپ نے متحدہ کی شکایت کو معمول کی کارروائی کہہ کر ڈبے میں ڈالا اور پیپلز پارٹی کے نعرے کو سیاسی کہہ کر صفحہ بدل لیا۔
ہمیں اس بات میں خاص دلچسپی ہرگز نہیں ہے کہ حکومت کو اچھا ہونے کی نصیحت کی گئی ہے۔ ہمارا معتبر میڈیا تو اپنا ذہن پہلے ہی بنا چکا ہے۔ اور لگتا یوں ہے کہ اسے اپنے وزیراعظم سے زیادہ انڈیا کے مودی کی فکر ہے۔ جتنی خبریں اور سنسنی مودی کو ملی ہے اس کا تھوڑا سا بھی حصہ ہمارے وزیراعظم کو مل جاتا تو شاید یہ مسئلہ حل ہوجاتا۔ مودی کہاں کھڑے ہیں؟ مودی کیا پی رہے ہیں، مودی کپڑے کون سے پہنتے ہیں۔ مودی مسکرائے کیوں، انھوں نے ہاتھ نیچے رکھنے کے بجائے اوپر کیوں رکھا ہے۔
اور سب سے بڑی بات یہ کہ مودی کتنے منحوس ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے کہ ایک چھوٹے ذہن کے آدمی کو ہم اپنے اوپر حاوی کرنا چاہتے ہیں۔ میڈیا دیکھ کر تو کم سے کم یہی لگتا ہے کہ انڈیا اور برطانیہ کے درمیان معاہدے نہیں ہورہے بلکہ ہم کوئی فائدہ لے رہے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ ہمارے سارے دکھ، سارے درد ختم ہوچکے ہیں اور ہمارا بس صرف ایک ہی مسئلہ رہ گیا ہے کہ مودی کا پیچھا کیا جائے اور اسے ہم سب پر سوار کردیا جائے۔ کیا ہم اسے دیکھ کر اپنا راستہ بنائیں گے؟ یا پھر ہماری منزلیں الگ ہیں؟ اسے اتنا بڑا خطرہ بنا کر کیوں پیش کیا جارہا ہے۔ ہم اور وہ یہ بات بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ ایک دوسرے کی طاقت کتنی ہے۔ ہم اگر یہ کہتے ہیں کہ مودی اچھی معاشی پالیسی کا اعلان کرکے آئے تھے لیکن اس میں ناکام ہوگئے اس لیے مذہبی شدت پسندی میں اضافہ کررہے ہیں۔ تو آئیے ہم نے کون سے معاشی انقلابات برپا کردیے؟
موجودہ حکومت نے آتے ہی ہمارے گردشی قرضے ختم کرنے کی خوشی سنائی تھی، وہ آج تک اسی قرضے کے گرد گھوم رہی ہے۔ اور اب تو یہ بھی کہہ دیا ہے کہ وزارت خزانہ کا نام بدل کر وزارت قرضہ رکھ لیا جائے۔ایک وفاقی وزیر صاحب نے فرمایا ہے کہ نئے قرضے اس نیک کام کے لیے اس قوم پر ڈالے ہیں کہ پرانے قرضے اتار سکیں۔ وہ قوم جس کے بچے پہلی سانس ہی قرضوں کے بوجھ سے لیتے ہیں، انھیں بڑے بڑے خواب کیوں دکھائے گئے تھے۔یہ بھی کہا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کا شوق نہیں۔ جس وقت وہ یہ کہہ رہے تھے کہ معیشت مضبوط ہوگئی ہے۔
اس وقت انھیں یہ خیال کیوں نہیں آیا تھا کہ ہم ایک جنگ بھی لڑ رہے ہیں۔ جو وہ آج یہ فرما رہے ہیں کہ آپریشن ضرب عضب پر پیسہ خرچ ہورہا ہے۔ چلیے ہم اس میں سے کوئی بھی بات نہیں کریں گے۔ ہمیں حکومت صرف اتنا بتادے کہ آخر وہ کون سے معاملات تھے یا پھر ہیں جس کی وجہ سے یہ بیان آیا ہے۔ حکومت نے اپنا جوابی بیان تو دے دیا۔
اس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ ہنڈیا میں کچھ نا کچھ پک رہا ہے۔ خوشبو سب کو آرہی ہے لیکن اگر آپ عوام کو ابھی سے اعتماد میں لے لیں گے تو ہوسکتا ہے بہت سارے دکھ ہم اپنے کندھے پر لے لیں۔ لیکن ایک منٹ رک جائیں، ہم اس بحث میں کیوں الجھ رہے ہیں۔ ہمارا تو کام سیدھا سیدھا ہونا چاہیے تھا کہ ہم اس پر ایک خط وزیر دفاع کو لکھتے۔ کیونکہ پاکستان کا آئین تو ہمیں یہی سکھاتا ہے۔ اور ہم نے یہ آئین اپنے پرانے آقا کمپنی بہادر سے لیا ہے۔ آج کل یہ مسئلہ تو وہاں پر بھی ہے۔ پہلے کمپنی بہادر کے ملک برطانیہ چلتے ہیں۔
برطانیہ کی ایک اہم جماعت لیبر پارٹی کے سربراہ جیرمی کوربن منتخب ہو چکے ہیں، جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ بائیں بازو کے نظریات رکھتے ہیں۔ برطانیہ میں ان کے انتخاب کے بعد بڑی تعداد میں بائیں بازو کی کتابوں کی فروخت ہوئی ہیں۔ جیرمی نا تو کسی بہت بڑے سیاست دان کے گھر کا روشن چراغ تھے اور نا ہی کسی سرمایہ دار اور وڈیرے کی اولاد۔ جس کے والد انجینئر اور ماں ڈاکٹر تھی۔ اس لیے ان کی خواہش تھی کہ بچہ بھی تعلیم کے میدان میں اپنا نام روشن کرے۔
مگر اعلیٰ یونیورسٹی میں پڑھتے ہوئے ہی وہ مزدوروں کے حقوق کے لیے سرگرم ہوگئے، اور بائیں بازو کی سیاست میں بھرپور شرکت شروع کردی۔ گزشتہ 32 سال سے وہ پارلیمنٹ کے رکن ہیں۔ اتنا لمبا عرصہ پارلیمنٹ کا رکن رہنے اور اب حزب اختلاف کی سب سے اہم جماعت لیبر پارٹی کا سربراہ ہونے کے باوجود ان کے پاس کار نہیں ہے۔
ہمارے یہاں تو جو لوگ پارلیمنٹ کی کرسی پر ایک گھنٹہ بیٹھ جاتے ہیں ان کے پاس گاڑیوں کی قطار لگ جاتی ہے۔ کار نا ہونے کی وجہ سے جیرمی اکثر سائیکل چلاتے نظر آتے ہیں۔ وہ عراق جنگ کے شدید مخالف تھے۔ جیرمی ہی وہ شخص تھے جنھوں نے حزب اللہ اور حماس جیسی جماعتوں کو برطانوی پارلیمنٹ میں دعوت دی۔ اب اس شخص نے برطانیہ کے ایک خاص میزائل پروگرام پر تنقید کی اور ساتھ کہا کہ وہ کبھی بھی ایٹمی بٹن نہیں دبائیں گے۔
جیرمی کے اس بیان پر کوئی اور تو نا بولا لیکن برطانیہ کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل نکولس بول پڑے۔ انھوں نے ایٹمی ہتھیار نا استعمال کرنے کے خیال کو ہی فرسودہ کہا۔ اور پھر براہ راست جیرمی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایٹمی ہتھیار استعمال نا کرنے کا خیال رکھنے والا جیرمی حکومت میں آ جائے۔ اس پر نا صرف جیرمی بلکہ کئی سیاست دانوں نے کھل کر بیان دیا۔ جیرمی نے کہا کہ یہ بات مناسب نہیں ہے حاضر سروس فوجی سیاسی تبصرے کریں یا پھر سیاسی بحث میں الجھیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ جنرل نے واضح طور پر آئینی اصول توڑا ہے، اس کے لیے میں وزیر دفاع کو خط لکھوں گا۔
اب آپ ہمارے یہاں بتائیں کہ کس کو خط لکھا جائے۔ وزیر دفاع تو گزشتہ کئی دنوں سے وزیراعظم کے اردگرد ہی نظر آرہے ہیں۔ اس حوالے سے کس کو خط لکھا جائے؟ آپ سمجھ رہے ہوں گے کہ میں بھی کہاں زمین کو آسمان سے ملا رہا ہوں۔ میں بھی پاگل ہوں کہ پھولوں کو تشبیہہ دینے کے لیے ہتھیاروں کی مثال دے رہا ہوں۔
میں بھی امن کی طلب میں بارود کو چھیڑ رہا ہوں۔ چھوڑیں اس موضوع کو۔ کچھ اچھی اچھی باتیں کرتے ہیں۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ جب پیپلز پارٹی کی حکومت تھی تو نواز شریف نے عہد کیا ہوا تھا کہ وہ اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کا ساتھ دیں گے۔
دوسری طرف اعتزاز نے سارے بندھن توڑ کر چیف کے لیے نعرے لگائے اور اس وقت جب پیپلز پارٹی کا وزیراعظم اڑ رہا تھا اس وقت بھی وہ چیف کے ساتھ کھڑے تھے۔ لیکن اب اعتزاز نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے دور میں اصل حکومت افتخار چوہدری نے کی تھی۔ کاش یہ بات انھیں اس وقت سمجھ آجاتی۔ آج کل کس کی حکومت ہے؟ کوئی بتاسکتا ہے کہ کس کا سکہ چل رہا ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ پانچ سال بعد خواجہ آصف کہہ رہے ہوں کہ اصل شامت میری تھی حکومت کسی اور کی تھی۔
تو آپ ہمیں پاکستان کی تاریخ میں آمروں کا کردار بتانے لگ جاتے۔ گلی محلے میں آپ کے وزیر نظر آتے نہیں جن سے مجھ جیسے لفنگے چلتے چلتے پوچھ لیتے کہ بھائی بجلی کب آئے گی؟ اسمبلی میں آپ کے اسپیکر اس بات پر احتجاج کرتے ہیں کہ وزیر کون سی دنیا میں بستے ہیں؟ ایسے میں اگر کسی نے آپ سے یہ پوچھ لیا کہ حکومت کہاں ہے تو اس میں برا ماننے کی کیا بات ہے۔ آپ انھیں کہنے لگ گئے کہ ہر ادارے کو اپنی حد میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔ یہ ہی بات تو سندھ کے لیے بھی کہی جارہی تھی۔ لیکن اس وقت تو آپ کہہ رہے تھے کہ آپریشن جاری رہے گا اور حکومت مکمل طور پر آپریشن کے ساتھ ہے۔ آپ نے متحدہ کی شکایت کو معمول کی کارروائی کہہ کر ڈبے میں ڈالا اور پیپلز پارٹی کے نعرے کو سیاسی کہہ کر صفحہ بدل لیا۔
ہمیں اس بات میں خاص دلچسپی ہرگز نہیں ہے کہ حکومت کو اچھا ہونے کی نصیحت کی گئی ہے۔ ہمارا معتبر میڈیا تو اپنا ذہن پہلے ہی بنا چکا ہے۔ اور لگتا یوں ہے کہ اسے اپنے وزیراعظم سے زیادہ انڈیا کے مودی کی فکر ہے۔ جتنی خبریں اور سنسنی مودی کو ملی ہے اس کا تھوڑا سا بھی حصہ ہمارے وزیراعظم کو مل جاتا تو شاید یہ مسئلہ حل ہوجاتا۔ مودی کہاں کھڑے ہیں؟ مودی کیا پی رہے ہیں، مودی کپڑے کون سے پہنتے ہیں۔ مودی مسکرائے کیوں، انھوں نے ہاتھ نیچے رکھنے کے بجائے اوپر کیوں رکھا ہے۔
اور سب سے بڑی بات یہ کہ مودی کتنے منحوس ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے کہ ایک چھوٹے ذہن کے آدمی کو ہم اپنے اوپر حاوی کرنا چاہتے ہیں۔ میڈیا دیکھ کر تو کم سے کم یہی لگتا ہے کہ انڈیا اور برطانیہ کے درمیان معاہدے نہیں ہورہے بلکہ ہم کوئی فائدہ لے رہے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ ہمارے سارے دکھ، سارے درد ختم ہوچکے ہیں اور ہمارا بس صرف ایک ہی مسئلہ رہ گیا ہے کہ مودی کا پیچھا کیا جائے اور اسے ہم سب پر سوار کردیا جائے۔ کیا ہم اسے دیکھ کر اپنا راستہ بنائیں گے؟ یا پھر ہماری منزلیں الگ ہیں؟ اسے اتنا بڑا خطرہ بنا کر کیوں پیش کیا جارہا ہے۔ ہم اور وہ یہ بات بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ ایک دوسرے کی طاقت کتنی ہے۔ ہم اگر یہ کہتے ہیں کہ مودی اچھی معاشی پالیسی کا اعلان کرکے آئے تھے لیکن اس میں ناکام ہوگئے اس لیے مذہبی شدت پسندی میں اضافہ کررہے ہیں۔ تو آئیے ہم نے کون سے معاشی انقلابات برپا کردیے؟
موجودہ حکومت نے آتے ہی ہمارے گردشی قرضے ختم کرنے کی خوشی سنائی تھی، وہ آج تک اسی قرضے کے گرد گھوم رہی ہے۔ اور اب تو یہ بھی کہہ دیا ہے کہ وزارت خزانہ کا نام بدل کر وزارت قرضہ رکھ لیا جائے۔ایک وفاقی وزیر صاحب نے فرمایا ہے کہ نئے قرضے اس نیک کام کے لیے اس قوم پر ڈالے ہیں کہ پرانے قرضے اتار سکیں۔ وہ قوم جس کے بچے پہلی سانس ہی قرضوں کے بوجھ سے لیتے ہیں، انھیں بڑے بڑے خواب کیوں دکھائے گئے تھے۔یہ بھی کہا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کا شوق نہیں۔ جس وقت وہ یہ کہہ رہے تھے کہ معیشت مضبوط ہوگئی ہے۔
اس وقت انھیں یہ خیال کیوں نہیں آیا تھا کہ ہم ایک جنگ بھی لڑ رہے ہیں۔ جو وہ آج یہ فرما رہے ہیں کہ آپریشن ضرب عضب پر پیسہ خرچ ہورہا ہے۔ چلیے ہم اس میں سے کوئی بھی بات نہیں کریں گے۔ ہمیں حکومت صرف اتنا بتادے کہ آخر وہ کون سے معاملات تھے یا پھر ہیں جس کی وجہ سے یہ بیان آیا ہے۔ حکومت نے اپنا جوابی بیان تو دے دیا۔
اس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ ہنڈیا میں کچھ نا کچھ پک رہا ہے۔ خوشبو سب کو آرہی ہے لیکن اگر آپ عوام کو ابھی سے اعتماد میں لے لیں گے تو ہوسکتا ہے بہت سارے دکھ ہم اپنے کندھے پر لے لیں۔ لیکن ایک منٹ رک جائیں، ہم اس بحث میں کیوں الجھ رہے ہیں۔ ہمارا تو کام سیدھا سیدھا ہونا چاہیے تھا کہ ہم اس پر ایک خط وزیر دفاع کو لکھتے۔ کیونکہ پاکستان کا آئین تو ہمیں یہی سکھاتا ہے۔ اور ہم نے یہ آئین اپنے پرانے آقا کمپنی بہادر سے لیا ہے۔ آج کل یہ مسئلہ تو وہاں پر بھی ہے۔ پہلے کمپنی بہادر کے ملک برطانیہ چلتے ہیں۔
برطانیہ کی ایک اہم جماعت لیبر پارٹی کے سربراہ جیرمی کوربن منتخب ہو چکے ہیں، جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ بائیں بازو کے نظریات رکھتے ہیں۔ برطانیہ میں ان کے انتخاب کے بعد بڑی تعداد میں بائیں بازو کی کتابوں کی فروخت ہوئی ہیں۔ جیرمی نا تو کسی بہت بڑے سیاست دان کے گھر کا روشن چراغ تھے اور نا ہی کسی سرمایہ دار اور وڈیرے کی اولاد۔ جس کے والد انجینئر اور ماں ڈاکٹر تھی۔ اس لیے ان کی خواہش تھی کہ بچہ بھی تعلیم کے میدان میں اپنا نام روشن کرے۔
مگر اعلیٰ یونیورسٹی میں پڑھتے ہوئے ہی وہ مزدوروں کے حقوق کے لیے سرگرم ہوگئے، اور بائیں بازو کی سیاست میں بھرپور شرکت شروع کردی۔ گزشتہ 32 سال سے وہ پارلیمنٹ کے رکن ہیں۔ اتنا لمبا عرصہ پارلیمنٹ کا رکن رہنے اور اب حزب اختلاف کی سب سے اہم جماعت لیبر پارٹی کا سربراہ ہونے کے باوجود ان کے پاس کار نہیں ہے۔
ہمارے یہاں تو جو لوگ پارلیمنٹ کی کرسی پر ایک گھنٹہ بیٹھ جاتے ہیں ان کے پاس گاڑیوں کی قطار لگ جاتی ہے۔ کار نا ہونے کی وجہ سے جیرمی اکثر سائیکل چلاتے نظر آتے ہیں۔ وہ عراق جنگ کے شدید مخالف تھے۔ جیرمی ہی وہ شخص تھے جنھوں نے حزب اللہ اور حماس جیسی جماعتوں کو برطانوی پارلیمنٹ میں دعوت دی۔ اب اس شخص نے برطانیہ کے ایک خاص میزائل پروگرام پر تنقید کی اور ساتھ کہا کہ وہ کبھی بھی ایٹمی بٹن نہیں دبائیں گے۔
جیرمی کے اس بیان پر کوئی اور تو نا بولا لیکن برطانیہ کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل نکولس بول پڑے۔ انھوں نے ایٹمی ہتھیار نا استعمال کرنے کے خیال کو ہی فرسودہ کہا۔ اور پھر براہ راست جیرمی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایٹمی ہتھیار استعمال نا کرنے کا خیال رکھنے والا جیرمی حکومت میں آ جائے۔ اس پر نا صرف جیرمی بلکہ کئی سیاست دانوں نے کھل کر بیان دیا۔ جیرمی نے کہا کہ یہ بات مناسب نہیں ہے حاضر سروس فوجی سیاسی تبصرے کریں یا پھر سیاسی بحث میں الجھیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ جنرل نے واضح طور پر آئینی اصول توڑا ہے، اس کے لیے میں وزیر دفاع کو خط لکھوں گا۔
اب آپ ہمارے یہاں بتائیں کہ کس کو خط لکھا جائے۔ وزیر دفاع تو گزشتہ کئی دنوں سے وزیراعظم کے اردگرد ہی نظر آرہے ہیں۔ اس حوالے سے کس کو خط لکھا جائے؟ آپ سمجھ رہے ہوں گے کہ میں بھی کہاں زمین کو آسمان سے ملا رہا ہوں۔ میں بھی پاگل ہوں کہ پھولوں کو تشبیہہ دینے کے لیے ہتھیاروں کی مثال دے رہا ہوں۔
میں بھی امن کی طلب میں بارود کو چھیڑ رہا ہوں۔ چھوڑیں اس موضوع کو۔ کچھ اچھی اچھی باتیں کرتے ہیں۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ جب پیپلز پارٹی کی حکومت تھی تو نواز شریف نے عہد کیا ہوا تھا کہ وہ اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کا ساتھ دیں گے۔
دوسری طرف اعتزاز نے سارے بندھن توڑ کر چیف کے لیے نعرے لگائے اور اس وقت جب پیپلز پارٹی کا وزیراعظم اڑ رہا تھا اس وقت بھی وہ چیف کے ساتھ کھڑے تھے۔ لیکن اب اعتزاز نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے دور میں اصل حکومت افتخار چوہدری نے کی تھی۔ کاش یہ بات انھیں اس وقت سمجھ آجاتی۔ آج کل کس کی حکومت ہے؟ کوئی بتاسکتا ہے کہ کس کا سکہ چل رہا ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ پانچ سال بعد خواجہ آصف کہہ رہے ہوں کہ اصل شامت میری تھی حکومت کسی اور کی تھی۔