سندھ حکومت بلدیاتی اداروں کی جلد از جلد تشکیل چاہتی ہے بلاول بھٹو زرداری
اداروں كی راہ میں ركاوٹیں كھڑی كی جارہی ہیں، چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی
پاكستان پیپلز پارٹی كے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ سندھ حكومت بلدیاتی اداروں كو تسلیم كرتی ہے اور یہ افسوس ناک بات ہے كہ ان اداروں كی راہ میں ركاوٹیں كھڑی كی جارہی ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ كی جانب سے اپنے اعزاز میں دیئے گئے افطار ڈنرسے خطاب كرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا یہ تاثر غلط ہے كہ پیپلز پارٹی منتخب بلدیاتی ادارے نہیں چاہتی بلکہ پیپلز پارٹی تو بلدیاتی اداروں كی جلد از جلد تشكیل چاہتی ہے تاہم الیكشن كمیشن انہیں تسلیم كرے یا نہ كرے لیكن پیپلز پارٹی ان كی حیثیت كو مانتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حكومت بلدیاتی اداروں كو تسلیم كرتی ہے اور یہ افسوس ناک بات ہے كہ ان اداروں كی راہ میں ركاوٹیں كھڑی كی جا رہی ہیں جب کہ ان اداروں كے كام نہ كرنے كے باعث سندھ میں بہت سے لوگ گزشتہ آٹھ 9 ماہ سے نوكری كا انتظار كر رہے ہیں، ہم یہ چاہتے ہیں كہ لوگوں كے بنیادی مسائل حل ہوں اور حكومت اور اپوزیشن كے درمیان آپس میں بہتر تعلقات ہوں۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہماری یہ بھی خواہش ہے كہ حكومت اور اپوزیشن كے لوگ صرف ٹی وی اسكرین پر ایک ساتھ بیٹھ كر مكالمہ نہ كریں بلكہ بے روزگاری، دہشت گردی، ماحولیات اور دوسرے اہم قومی اور بین الاقوامی ایشوز پر بھی ساتھ بیٹھ کر ان کا حل تلاش کریں۔
وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ كی جانب سے اپنے اعزاز میں دیئے گئے افطار ڈنرسے خطاب كرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا یہ تاثر غلط ہے كہ پیپلز پارٹی منتخب بلدیاتی ادارے نہیں چاہتی بلکہ پیپلز پارٹی تو بلدیاتی اداروں كی جلد از جلد تشكیل چاہتی ہے تاہم الیكشن كمیشن انہیں تسلیم كرے یا نہ كرے لیكن پیپلز پارٹی ان كی حیثیت كو مانتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حكومت بلدیاتی اداروں كو تسلیم كرتی ہے اور یہ افسوس ناک بات ہے كہ ان اداروں كی راہ میں ركاوٹیں كھڑی كی جا رہی ہیں جب کہ ان اداروں كے كام نہ كرنے كے باعث سندھ میں بہت سے لوگ گزشتہ آٹھ 9 ماہ سے نوكری كا انتظار كر رہے ہیں، ہم یہ چاہتے ہیں كہ لوگوں كے بنیادی مسائل حل ہوں اور حكومت اور اپوزیشن كے درمیان آپس میں بہتر تعلقات ہوں۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہماری یہ بھی خواہش ہے كہ حكومت اور اپوزیشن كے لوگ صرف ٹی وی اسكرین پر ایک ساتھ بیٹھ كر مكالمہ نہ كریں بلكہ بے روزگاری، دہشت گردی، ماحولیات اور دوسرے اہم قومی اور بین الاقوامی ایشوز پر بھی ساتھ بیٹھ کر ان کا حل تلاش کریں۔