سانحہ کوئٹہ خفیہ اداروں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے محمود خان اچکزئی

وزیراعظم اور آرمی چیف کو ایک ساتھ کوئٹہ جانا چاہیے تھا کیونکہ 2 شریفوں کے الگ الگ جانے سے غلط تاثر پھیلا ،اچکزئی

کوئٹہ واقعے کی تحقیقات سیکیورٹی اداروں کے سپرد کی جائے اور اگر وہ اس میں ناکام ہوجاتے ہیں تو ادارے کے سربراہ کو ہٹا دیا جائے،اچکزئی :فوٹو : فائل

محمود خان اچکزئی کا کہنا ہے کہ ہر سانحے کے بعد بھارتی خفیہ ایجنسی را پر الزام عائد کردیا جاتا ہے جب کہ کوئٹہ میں جگہ جگہ ایف سی اہلکار موجود ہونے کے باوجود بلوچستان بار کے صدر کا قتل اور سول اسپتال میں دھما کا ہونا خفیہ اداروں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے پشتون خوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ کوئٹہ میں فرنٹیئر کور کے اہلکار جگہ جگہ موجود ہوتے ہیں اور کسی بھی شخص کو تلاشی کے بغیر نہیں جانے دیا جاتا لیکن اس کے باوجود بلوچستان ہائی کورٹ کے صدر کو ہدف بنا کر نشانہ بنا دیا گیا اور پھر خود کش حملہ آور بھی سول اسپتال پہنچنے میں کامیاب ہوگیا یہ خفیہ اداروں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔


محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم کسی اور کی زبردستی مسلط کی گئی جنگ کا حصہ تو نہیں بن رہے ہر سانحے کے بعد بھارتی خفیہ ایجنسی را پر الزام عائد کردیا جاتا ہے اور پارلیمنٹ میں دہشت گردی میں ہلاک ہونے والے افراد کے لئے صرف دعائے مغفرت کردی جاتی ہے اس طرح ملکی مسائل حل نہیں ہوتے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے مربوط اقدامات کرنا ہوں گے جب کہ پارلیمان میں موجود ہر رکن کوبھی اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ،حکومت، فوج اور عدلیہ کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تجدید عہد کرنا ہوگا ۔

پشتون خوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ کوئٹہ واقعے کی تحقیقات سیکیورٹی اداروں کے سپرد کی جائے اور اگر وہ اس میں ناکام ہوجاتے ہیں تو ادارے کے سربراہ کو عہدے سے ہٹا دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اور آرمی چیف کو ایک ساتھ کوئٹہ جانا چاہیے تھا کیونکہ 2 شریفوں کا الگ الگ جانا غلط تاثر پھیلا گیا ہے۔

Load Next Story