ایتھنز کے مسلمان 180سال سے مسجد کی تعمیر کے منتظر
واحد دارالحکومت ہے جہاںمسجد نہیں، 500 نمازیوں کیلیے تعمیر کی اجازت مل گئی،تعمیر شروع نہیں ہوسکی۔
ایتھنز کے مسلمان 180سال سے مسجد کی تعمیر کے منتظر ہیں،پورے یورپ میں ایتھنز ہی ایک واحد دارالحکومت ہے جہاں کوئی مسجد نہیں ہے۔
شہر کے پاس فوج کیلیے مخصوص ایک غیر استعمال شدہ جگہ کو پہلی مسجد کیلیے منتخب کیا گیا ہے جس میں 500 لوگ نماز پڑھ سکیں گے۔مسجد تعمیر ہوئی تو اس کے دروازے کے پاس ہی چرچ بھی ہوگا جس پر آنے جانے والوں کی نظر پڑ سکے گی۔برطانوی میڈیا کے مطابق یونان اس وقت مالی مشکلات سے دو چار ہے ،مسجد کی تعمیر کیلیے 13 لاکھ ڈالرکا اعلان کرنا آسان کام نہیں ہوگا۔ترقیاتی امور کی وزارت کے سیکریٹری سٹراتسو سموپولس نے کہاکہ مسجد کی تعمیر ضروری ہے اور ممکن ہے کہ ہم اس پر آئندہ چند ماہ میں عمل بھی شروع کریں۔
یونان کے چرچ نے بھی مسجد کی تعمیر کے منصوبے کی حمایت کی ہے لیکن بعض سینئر قدامت پسند مخالف ہیں۔ چرچ کے ایک بشپ سیرافم نے کہاکہ ترکی کے دور اقتدار میں یونان نے 5 صدیوں تک اسلامی ظلم برداشت کیا اور مسجد کی تعمیر سے ان شہیدوں کی توہین ہوگی جنہوں نے ہمیں آزادی دلائی تھی۔یونان میں اس سے متعلق مختلف آرا ہیں ایک شخص کا کہنا تھا مسلمانوں کیلیے عبادت کی جگہ ہونی چاہیے۔
یونان سے نقل مکانی کرنے والوں نے بھی دوسری جگہوں پر اپنے چرچ تعمیر کیے ہیں۔ایک دوسرے طالب علم ماریو نے کہا کہ یہ عیسائیوں کا ملک ہے اور اگر انہیں مسجد چاہیے تو وہ اپنے ملک واپس چلے جائیں۔یونان میں مذہب بھی قومی شناخت کا حصہ ہے ، چرچ اور حکومت میں گہرا ربط رہتا ہے تاہم مسجد کے اس مسئلے نے یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ یونان مستقبل میں کیسی ریاست بن کر ابھرنا چاہتا ہے۔
شہر کے پاس فوج کیلیے مخصوص ایک غیر استعمال شدہ جگہ کو پہلی مسجد کیلیے منتخب کیا گیا ہے جس میں 500 لوگ نماز پڑھ سکیں گے۔مسجد تعمیر ہوئی تو اس کے دروازے کے پاس ہی چرچ بھی ہوگا جس پر آنے جانے والوں کی نظر پڑ سکے گی۔برطانوی میڈیا کے مطابق یونان اس وقت مالی مشکلات سے دو چار ہے ،مسجد کی تعمیر کیلیے 13 لاکھ ڈالرکا اعلان کرنا آسان کام نہیں ہوگا۔ترقیاتی امور کی وزارت کے سیکریٹری سٹراتسو سموپولس نے کہاکہ مسجد کی تعمیر ضروری ہے اور ممکن ہے کہ ہم اس پر آئندہ چند ماہ میں عمل بھی شروع کریں۔
یونان کے چرچ نے بھی مسجد کی تعمیر کے منصوبے کی حمایت کی ہے لیکن بعض سینئر قدامت پسند مخالف ہیں۔ چرچ کے ایک بشپ سیرافم نے کہاکہ ترکی کے دور اقتدار میں یونان نے 5 صدیوں تک اسلامی ظلم برداشت کیا اور مسجد کی تعمیر سے ان شہیدوں کی توہین ہوگی جنہوں نے ہمیں آزادی دلائی تھی۔یونان میں اس سے متعلق مختلف آرا ہیں ایک شخص کا کہنا تھا مسلمانوں کیلیے عبادت کی جگہ ہونی چاہیے۔
یونان سے نقل مکانی کرنے والوں نے بھی دوسری جگہوں پر اپنے چرچ تعمیر کیے ہیں۔ایک دوسرے طالب علم ماریو نے کہا کہ یہ عیسائیوں کا ملک ہے اور اگر انہیں مسجد چاہیے تو وہ اپنے ملک واپس چلے جائیں۔یونان میں مذہب بھی قومی شناخت کا حصہ ہے ، چرچ اور حکومت میں گہرا ربط رہتا ہے تاہم مسجد کے اس مسئلے نے یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ یونان مستقبل میں کیسی ریاست بن کر ابھرنا چاہتا ہے۔