مصر نے 2 ویران جزیرے سعودی عرب کو دیدیے
سعودیہ اور مصرکی نئی سمندری حدود کی حد بندی سے متعلق معاہدے کی توثیق
مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے بحیرہ احمر میں واقع 2 ویران جزیرے سعودی عرب کے حوالے کرنے اور نئی سمندری حدود کی حد بندی سے متعلق معاہدے کی توثیق کردی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے بحیرہ احمر میں واقع بے آباد جزیرے سعودی عرب کے حوالے کرنے اور نئی سمندری حدود کی حد بندی سے متعلق معاہدے کی توثیق کردی ہے ۔مصری پارلیمان نے گذشتہ بدھ کو سعودی عرب کے ساتھ نئی بحری حدود کی حدبندی کی منظوری دی تھی۔اس کے تحت بحیرہ احمر میں واقع 2 جزیرے تیران اور صنافیر کو سعودی عرب کے حوالے کردیا گیا ہے۔
مصری پارلیمان کے اسپیکر علی عبدالعال نے رائے شماری کے بعد معاہدے کی منظوری کا اعلان کیا تھا۔ آبی گذرگاہ خلیج عقبہ کے جنوبی داخلی راستے پر واقع یہ دونوں جزیرے سعودی عرب کے ملکیت تھے۔ 1950 میں مصر سے ان جزیروں کے تحفظ کے لیے کہا گیا تھا اور ان پر تب سے مصر کا کنٹرول چلا آرہا تھا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے بحیرہ احمر میں واقع بے آباد جزیرے سعودی عرب کے حوالے کرنے اور نئی سمندری حدود کی حد بندی سے متعلق معاہدے کی توثیق کردی ہے ۔مصری پارلیمان نے گذشتہ بدھ کو سعودی عرب کے ساتھ نئی بحری حدود کی حدبندی کی منظوری دی تھی۔اس کے تحت بحیرہ احمر میں واقع 2 جزیرے تیران اور صنافیر کو سعودی عرب کے حوالے کردیا گیا ہے۔
مصری پارلیمان کے اسپیکر علی عبدالعال نے رائے شماری کے بعد معاہدے کی منظوری کا اعلان کیا تھا۔ آبی گذرگاہ خلیج عقبہ کے جنوبی داخلی راستے پر واقع یہ دونوں جزیرے سعودی عرب کے ملکیت تھے۔ 1950 میں مصر سے ان جزیروں کے تحفظ کے لیے کہا گیا تھا اور ان پر تب سے مصر کا کنٹرول چلا آرہا تھا۔