اسپاٹ فکسنگ میں ملوث کرکٹرزکا ڈیٹا ایف آئی اے کو فراہم نہ کیا جا سکا
ابھی تک کرکٹرز کے موبائل فونز کا ڈیٹا اور دیگر مالی تفصیلات کا ریکارڈ وفاقی ادارے کو فراہم نہیں کیا جا سکا، ذرائع
RAWALPINDI:
ایف آئی اے سائبر کرائم کو پی ایس ایل اسپاٹ فکسنگ کیس میں ملوث کرکٹر کا ریکارڈ فراہم نہیں کیا جا سکا۔
رواں سال فروری میں اسکینڈل سامنے آنے کے بعد پی سی بی کے ساتھ ایف آئی اے نے بھی ملوث کرکٹرز کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا تھا، اس سلسلے میں اس وقت کے وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے بھی خصوصی دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ ملک کیلیے بدنامی کا باعث بننے والے کھلاڑیوں کو معاف نہیں کیا جائے گا تاہم پی سی بی نے ایف آئی اے سے درخواست کی تھی کہ ٹرییبونل میں جاری کیسز کا فیصلہ آنے تک کارروائی نہ کی جائے۔
اب خالد لطیف اورشرجیل خان کیسز کا فیصلہ آ چکا ہے، اس سے قبل محمد عرفان پر پابندی عائد کی گئی تھی، طویل قامت پیسر کی سزا بھی مکمل ہو چکی۔ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی نے ریکارڈ کے حصول کیلیے دوبارہ کرکٹ بورڈ سے رجوع کیا تھا جسے فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق ابھی تک کرکٹرز کے موبائل فونز کا ڈیٹا اور دیگر مالی تفصیلات کا ریکارڈ وفاقی ادارے کو فراہم نہیں کیا جا سکا۔
ایف آئی اے سائبر کرائم کو پی ایس ایل اسپاٹ فکسنگ کیس میں ملوث کرکٹر کا ریکارڈ فراہم نہیں کیا جا سکا۔
رواں سال فروری میں اسکینڈل سامنے آنے کے بعد پی سی بی کے ساتھ ایف آئی اے نے بھی ملوث کرکٹرز کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا تھا، اس سلسلے میں اس وقت کے وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے بھی خصوصی دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ ملک کیلیے بدنامی کا باعث بننے والے کھلاڑیوں کو معاف نہیں کیا جائے گا تاہم پی سی بی نے ایف آئی اے سے درخواست کی تھی کہ ٹرییبونل میں جاری کیسز کا فیصلہ آنے تک کارروائی نہ کی جائے۔
اب خالد لطیف اورشرجیل خان کیسز کا فیصلہ آ چکا ہے، اس سے قبل محمد عرفان پر پابندی عائد کی گئی تھی، طویل قامت پیسر کی سزا بھی مکمل ہو چکی۔ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی نے ریکارڈ کے حصول کیلیے دوبارہ کرکٹ بورڈ سے رجوع کیا تھا جسے فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق ابھی تک کرکٹرز کے موبائل فونز کا ڈیٹا اور دیگر مالی تفصیلات کا ریکارڈ وفاقی ادارے کو فراہم نہیں کیا جا سکا۔